Urdu Mahfil I Made "www.urdumahfil.com" Website for those people who love to read latest sad sashayri,Articals and latest urdu news. Every day i publish new posts releted these topics. Thanks for vistiing us.

یہاں آپ کو تازہ ترین خبریں دلچسپ اشعار،مضامین اور دینی مسائل وغیرہ کے بارے مے جانکاری ملے گی

تازہ ترین

ایا صوفیہ چرچ یا مسجد






urdumahfil,turki,masjid
ایا صوفیہ چرچ یا مسجد ۔ 
ڈاکٹر نفیس اختر 
29 مئی 1453 کو محمد فاتح قسطنطنیہ فتح کرتا یے ، شہر میں مسلمان دستے قتل عام شروع کردیتے ہیں ۔ اسی روز سلطان ایاصوفیہ میں داخل ہوتا یے ، اذان دی جاتی یے اور  ظہر کی نماز باجماعت ادا کی جاتی یے   ۔ وہ دن منگل کا تھا ( حوالہ دولت عثمانیہ مولوی ڈاکٹر عزیز احمد ، دار المصنفین اعظم گڑھ ایڈیشن 2009, تقریظ و تصدیق مولانا سید سلیمان ندوی صفحہ 103-104) 
سوال۔ عین اس وقت جب شہر میں قتل عام ہورہا ہو اور اسی دن فتح کے محض چند گھنٹوں بعد کس طرح سے نماز باجماعت سے قبل بغیر کسی دباو اور باہمی رضامندی سے خرید وفروخت کا عمل انجام پا سکتا یے ؟ 
 ایک دلیل یہ بھی دی جاتی یے کہ عنوۃ یعنی جنگ کے ذریعہ فتح کیا ہوا شہر، اس کی جائدائیں اور اس کے باشندے سب فاتح کی ملکیت ہوتے ہیں ۔ جس عمارت پر وہ جیسا چاہے تصرف کرے ، جس باشندے کو قتل کرنا چاہے قتل کرے ۔جس عبادت خانہ کو تبدیل کرنا چاہے تبدیل کرے ۔
جواب ۔۔  یہ اس وقت کا جاہلی دستور تو ہو سکتا ہے مگر یہ اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس یے ۔ اس لئے کہ قرآن نے قتال کی حکمت فتنہ یعنی مذہبی جبر کا خاتمہ قرار دیا ہے ( سورۃ البقرہ آیت نمبر 193)   اور مذہبی جبر کے خاتمہ میں سینیگاگ،  کلیسا، مسجد اور مندر کی حفاظت بھی شامل ہے چناچہ سورہ حج میں اللہ تعالی قتال کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں " اگر اللہ لوگوں کو لوگوں کے ذریعہ نہ ہٹاتا رہتا تو گرجاگھر، کلیسا، سینیگاگ اور وہ مسجدیں ڈھا دی جاتیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا یے "( سورۃ الحج آیت نمبر 40)  گویا اللہ کی منشا ہے کہ مذہبی آزادی قائم رہے اور عبادت گاہوں کی حفاظت ہو ۔ پھر اللہ کی اس منشا کو پورا کرنے کی جد وجہد کرنے والوں کے متعلق اسی آیت میں فرماتا ہے " جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ اس کی مدد کرے گا " صاف ظاہر یے عبادت گاہوں کا تحفظ قتال فی سبیل اللہ کی اغراض میں شامل ہے ۔ جب جنگ کا مقصد ہی یہ ٹھہرا تو جنگ سے حاصل ہونے والے شہر کی عبادت گاہوں کا تحفظ تو اس میں شامل ہونا ہی چاہئے ۔ اس لئے یہ بات قرآن کے ہی خلاف یے کہ جنگ سے حاصل ہونے والے عبادت خانوں پر فاتح کو تصرف کا حق حاصل ہوتا ہے ۔
نوٹ ۔۔ جس چیز کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہو اسے ہی ہم خرید کر مالک بننے اور تبدیل کرنے کی کوشش کرنے لگ جائیں تو یہ ذمہ داری کی امانت میں خیانت کے مترادف ہے   بالکل اسی طرح کہ کسی یتیم کا کفیل ہی اس کی جائداد خریدنے لگ جائے ۔
ایک دلیل یہ دی جاتی یے کہ وہ صرف ایک کلیسا نہیں تھا بلکہ ایک عسکری اور سیاسی مرکز بھی تھا ۔ 
جواب ۔۔ اس سے اس کی عبادت گاہ کی حیثیت ختم نہیں ہوجاتی یے ۔اس پر قبضہ کرنے کے بعد آپ کو یہ حق تو ہے کہ آپ اسے عسکری اور سیاسی لحاظ سے استعمال نہ ہونے دیں مگر یہ حق کیسے مل سکتا ہے کہ اس کی عبادت گاہ کی حیثیت ہی ختم کردیں ۔مسجد نبوی بھی عصر نبوی میں سیاسی اور عسکری ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال ہوتی تھی ، غزوہ تبوک کی ساری پلاننگ اور تیاری،  فنڈنگ اور عسکری تیاری اسی مسجد سے ہی ہوئی تھی لیکن کیا اس سے اس کی مسجد کی حیثیت ختم ہوگئی تھی ۔۔ پھر یہ ایک ایاصوفیہ چرچ کا مسئلہ نہیں شہر کے تمام چرچ پر قبضہ کرلیا گیا تھا بعد میں شہر کے آدھے چرچ تو عیسائیوں کے حوالے کردئے گئے مگر آدھے بدستور مسلمانوں کے قبضہ میں رہے( بحوالہ کتاب مذکور صفحہ105)  ۔ کیا یہ سارے چرچ عسکری وسیاسی اڈے تھے ؟ 
یہ دلیل بھی دی جاتی یے کہ جب عیسائیوں  نے مسجد قرطبہ ، جامع اشبیلیہ پر قبضہ کرکے اسے چرچ بنادیا تو مسلمانوں نے اگر ایاصوفیہ کے ساتھ یہی معاملہ کیا تو کیا غلط یے ؟
جواب ۔کسی کا غلط عمل ہمارے غلط عمل کا جواز کیسے بن سکتا یے ؟ 
یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ عیسائی تو اپنے چرچ آج بھی بیچتے رہتے ہیں تو اس وقت بیچ دیا ہو تو اس میں کیا تعجب یے ؟ 
جواب ۔آج جب کہ نہ تو مسیحی ہمارے ماتحت ہیں اور نہ ہی ان کے چرچ کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے بلکہ وہ خود ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں اس لئے آج ان کے چرچ خرید کر مسجد بنانے میں حرج نہیں مگر اس وقت ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار تھے اور عیسائی ہمارے ماتحت تھے اس لئے اس وقت خود ہم اسے خرید کر مسجد بنانے لگ جائیں تو یہ تحفظ فراہم کرنے کے خلاف عمل یے ۔ پھر مسجد تو عین فتح کے دن ہی بنا لی گئی تھی جب شہر میں مسلمان قتل عام کر رہے تھے تو عین اسی وقت خریدنے کا عمل جبر  و اکراہ سے خالی کیسے قرار پاسکتا ہے؟ 
اس سلسلہ میں اصل اسلام حضرت عمر کا اسوہ ہے جنھوں نے نہ تو فلسطین کا چرچ خریدا اور نہ پیش کش کے باوجود اس میں نماز پڑھی کہ مبادا بعد کے لوگ اس عمل کو دلیل بنا کر اسے مسجد میں تبدیل کرنے لگ جائیں ۔ 
ان تمام دلائل کا خلاصہ یہ ہے وہ ایک غصب کی ہوئی جگہ پر تعمیر ناجائز مسجد تھی اس لئے اسے پھر سے مسجد میں بدلنا اسی ناجائز مسجد کا تسلسل ہے ۔ 
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ معاہدے کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے اور ترکی نے اقوام متحدہ کے اس چارٹر پر سائن کیا ہے جس کی رو سے ورلڈ ہیریٹیج کی موجودہ صورت کو تبدیل نہ کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔ اب اس معاہدے کی خلاف ورزی کیسے درست ہوسکتی یے ؟ 
نوٹ: مسجد قرطبہ کے متعلق احباب یہ ذہن میں رکھیں کہ مسیحیوں نے مسجد کے صرف اس حصہ کو چرچ بنایا ہے جو پہلے بھی چرچ تھا بعد میں مسجد کی توسیع کے وقت اس چرچ کو خرید کر مسجد میں شامل کرلیا گیا ہے ۔باقی مسجد کو انھوں نے میوزیم کی شکل دے دی ہے ۔ اسی کے مطابق مصطفی کمال پاشا نے بھی ا یا صوفیا کو میوزیم بنا دیا تھا ۔( یہ نوٹ ہمارے اصل موضوع سے براہ راست متعلق نہیں ہے ۔
نوٹ۔۔ خریدنے کا ذکر اور یہ دستاویز جو آج کل سوشل میڈیا پر دست گرداں ہے جس کا متن بھی ٹھیک سے پڑھنے کے قابل نہیں ہے کا ذکر تاریخ کی متداول کتابوں میں نہیں ملتا ۔ خواہ وہ مسلموں کی لکھی ہوں یا غیر مسلموں کی ۔ اور بعض مورخین نے اس دستاویز کی آتھینٹسٹی کو مشکوک قرار دیا یے ۔
ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ وہ سلطان جس کی بشارت اور پیش گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہو اس سے یہ غلط عمل کیسے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????