Urdu Mahfil I Made "www.urdumahfil.com" Website for those people who love to read latest sad sashayri,Articals and latest urdu news. Every day i publish new posts releted these topics. Thanks for vistiing us.

یہاں آپ کو تازہ ترین خبریں دلچسپ اشعار،مضامین اور دینی مسائل وغیرہ کے بارے مے جانکاری ملے گی

تازہ ترین

ترک قوم اور قایی قبیلے کی تاریخ !

urdushayri



ترک قوم اور قایی قبیلے کی تاریخ !

ترکوں کی تاریخ موجودہ منگولیا کے آس پاس ملتی ہے۔۔۔۔ قدیم زمانے میں یہ وہیں رہتے تھے، یہ مشرک، کواکب پرست، اور بت پرست قوم تھی، چوتھی صدی قبل مسیح سے انکی تاریخ ملتی ہے، کچھ مورخین انہیں (ترك بن كومر بن يافث بن نوح عليه السلام ) سے جوڑتے ہیں۔۔۔ 

ترکوں کے بیسیوں قبائل تھے، جن میں ایک قبیلہ اوگوز کی ایک شاخ قایی بھی تھا، انہیں کو )ترکمانِ غُز) کہا جاتا ہے، ترکوں کے اکثر قبائل خلافت راشدہ ہی کے دور میں اسلام قبول کر لئے تھے، اور عباسی خلافت میں کافی دخیل تھے، اپنی الگ الگ حکومتیں بھی بنا رکھی تھی، مگر یہ قایی قبیلہ طلوع اسلام کے چھ سو سال بعد تیرہویں صدی عیسوی میں اسلام قبول کیا ہے، ارطغرل نے پہلے قبول کیا یا اسکے بیٹے عثمان نے اس میں اختلاف ہے، بہر حال تیرہویں صدی سے پہلے یہ قبیلہ بت پرست تھا۔۔۔۔ اسلام لانے کے بعد ارطغرل کے بیٹے عثمان اول کے نام پر یہ عثمانی ترک سے مشہور ہوئے۔۔  

یہاں وضاحت اس بات کی ہے کہ بہت سے لوگ ترکوں کے کسی بھی قبیلے کے کارنامے کو عثمانی ترکوں سے جوڑ دیتے ہیں، چنانچہ کوئی کارنامہ اگر مصر میں مملوکی ترکوں نے کیا ہو تاتاریوں کے خلاف تو اسے عثمانی ترکوں سے جوڑ دیا جاتا ہے، صلیبیوں کے خلاف سلجوقی ترکوں کے کارناموں کو بھی انہیں عثمانی ترکوں سے جوڑ دیا جاتا ہے، حد تو یہ ہیکہ تیموری اور خوارزمی ترکوں کے کارناموں کو بھی انہیں عثمانی ترکوں سے جوڑ دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ 

چنانچہ تیرہویں اور چودہویں صدی عیسوی میں بیت المقدس پر اور عالم اسلامی پر تاتاریون اور صلیبیوں کے حملوں کو روکنے میں عثمانی ترکوں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا،،، نہ ہی اسکے بعد بیت المقدس کی آزادی میں انکا کوئی ہاتھ تھا۔۔  پھر پندرہوں صدی عیسوی میں جب اندلس سے مسلمانوں کو نکالا جا رہا تھا اس وقت بھی عثمانی ترکوں نے انکی کوئی مدد نہیں کی۔۔۔ اسکے بعد سولہویں صدی میں پرتگالیوں نے حملہ کرکے خلیج عرب کے بہت سارے علاقے پر قبضہ کرلیا یہاں تک کہ ہندوستان تک پہنچ گئے اس وقت بھی عثمانی ترکوں نے انہیں نہیں روکا جبکہ اس وقت عثمانی بحریہ نمبر ون پر تھی۔۔۔ 
اٹھارہویں صدی میں انگریزوں نے عالم اسلام پر قبضہ کرنا شروع کیا مگر عثمانی ترکوں نے کوئی مدد نہیں کی، حتی کہ شیر میسور ٹیپو سلطان نے خصوصی مدد طلب کی مگر عثمانی ترکوں نے انگریزوں کے خلاف مدد دینے سے انکار کردیا،  جسکی وجہ سے انگریزوں کا پورے بھارت پر قبضہ ہوگیا۔۔۔ 
اس کا نقصان عثمانی ترکوں نے پہلی جنگ عظیم میں اٹھایا جب انگریزوں نے لاکھوں انڈین کے ساتھ جرمنی پر حملہ کیا اور عثمانی ترکوں نے جرمنی کا ساتھ دیا، چنانچہ جرمنی کی شکست کے نتیجے میں عثمانی ترکوں کی بھی شکست ہوئی اور اسکے نتجے میں فلسطین کے ساتھ سارے عرب علاقے گنوانے پڑے۔۔۔ 

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ترکوں نے صرف اپنی بادشاہت کو نہ دیکھ کر مسلمانوں کی مدد کی ہوتی اور پہلی جنگ عظیم میں دانشمندی کا ثبوت دیا ہوتا تو اتنی آسانی سے مصطفی کمال پاشا اور جمال پاشا جیسے سیکولر ذہن کے لوگوں کو ترک حکومت گرانے کا موقع نہ ملتا۔۔۔۔  ویسے سچ ہے مثل: جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔۔۔

معلوم رہے کہ ترک سلاطین اپنی کرسی بچانے کیلئے اپنے بھائیوں بھتجیوں اور چچاؤں کا قتل کر دیتے تھے۔۔۔ پھر کرسی بادشاہت پر بیٹھا کرتے تھے ۔۔۔ سلیم سوم نے ایک ساتھ 19/ بھائیوں کا قتل کیا تھا۔۔۔۔ 
کل 36/ سلاطین تھے مگر ایک بھی سلطان حج کرنے نہیں آیا۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????