Urdu Mahfil I Made "www.urdumahfil.com" Website for those people who love to read latest sad sashayri,Articals and latest urdu news. Every day i publish new posts releted these topics. Thanks for vistiing us.

یہاں آپ کو تازہ ترین خبریں دلچسپ اشعار،مضامین اور دینی مسائل وغیرہ کے بارے مے جانکاری ملے گی

تازہ ترین

کیا واقعی سعودی نے اسلامی حد (کوڑے کی سزا) ختم کردی ہے؟!

کیا واقعی سعودی نے اسلامی حد (کوڑے کی سزا) ختم کردی ہے؟!



کل ایک خبر سعودی عرب کے تعلق سے پوری دنیا میں مشہور کی گئی کہ اب وہاں پر کوڑا مارنے کی سزا ختم کردی گئی ہے، الجزیرہ، بی بی سی سے لیکر امریکی اور یورپی اخباروں اور برصغیری اردو کالی میڈیا تک سب نے ایک ہی لفظ میں لکھا کہ اب سعودی میں بن سلمان نے اصلاحات کے پیش نظر اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے دباؤ میں آکر ایک اسلامی سزا کو ختم کردیا ہے۔۔ 

پہلی بات یہ کہ اس میں ساری باتیں غلط ہیں، نہ کوڑا مارنے کی اسلامی سزا کو ختم کیا گیا ہے، اور نہ ہی اسے بن سلمان کا ایسا کوئی حکم ہوا ہے، اور نہ ہی کسی تنظیم کے دباؤ میں آکر ایسا کچھ کیا گیا ہے،،، پھر مسئلہ ہے کیا؟!!!

دراصل ایک خبر ڈھائی مہینہ پہلے کی ہے جس کے مطابق ملک سلمان نے سپریم کورٹ کو یہ ارڈر دیا تھا کہ تعزیراتی سزاؤں کو مزید سخت کیا جائے، اور کوڑا مارنے کو ختم کرکے اسے قید اور جرمانے میں بدل دیا جائے۔۔ 

معلوم ہونا چاہئے کہ تعزیراتی سزاؤں میں حاکم کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ سزا کی سنگینی کے اعتبار سے کوئی بھی سزا متعین کر سکتا ہے، اور یہ بات سعودی دستور کے اندر آرٹیکل 38، 39 اور 40 میں تفصیل سے لکھا ہوا ہے۔۔ 

جہاں تک حدود میں کوڑا مارنے کی سزا ہے جسے شریعت میں متعین کیا گیا ہے جیسے تہمت لگانے کی سزا 80/ کوڑا، شراب پینے کی سزا چالیس کوڑا، اور غیر شادی شدہ کے زنا کرنے کی سزا سو کوڑا ، تو ان حدود کو نافذ کیا جاتا ہے انہیں کوئی حاکم نہیں چھیڑ سکتا۔۔ 

چنانچہ 20/ جمادی الثانی کو جو حکم جاری ہوا ہے اس میں صراحت سے (العقوبات التعزیریہ) لکھا ہوا ہے نہ کہ حدود لکھا ہے۔۔ لیکن آج کی مکار میڈیا نے جب اس خبر کو پھیلایا تو اس کی صراحت نہیں کی بلکہ آپ چاہے اردو خبریں دیکھیں یا الجزیرہ جیسے یہودی چینل میں عربی خبریں دیکھیں یا انگریزی خبریں دیکھیں سب نے اسے اس طرح کہانی بنا کر لکھا ہے جس سے قاری کو لگے کہ بن سلمان سعودی عرب سے اسلامی سزاؤں کو ختم کر رہا ہے۔۔۔ اور پھر یہ کہانی پڑھ کر رمضان کی پہلی رات سے قارئین حضرات گالی دیکر اپنے میزان حسنات میں اضافہ کرتے رہیں۔۔ 

لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہیکہ مکار میڈیا نے اس خبر کو توڑ مروڑ کر ڈھائی مہینے کے بعد کیوں پھیلایا ؟ اسکی کیا وجہ ہے، ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آیا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت اس خبر سے سعودی عرب کو بدنام کرنے کی کوئی شکل مکاروں کے دلوں میں نہ آئی ہو، پھر کل اچانک کسی بڑے ابلیس نے اپنے چیلوں کو یہ سجھاؤ دی ہو کہ ایک پرانی خبر جسے چھوڑ دیا گیا اگر اسے اسطرح توڑ مروڑ کر پھیلایا جائے تو ضرور ہم کامیاب ہوں گے اور اس سے ہمارے ایرانی اور اسرائیلی آقا خوش ہونگے نیز ہمارے چمچمے بھی ڈھول بجائیں گے
کل ایک خبر سعودی عرب کے تعلق سے پوری دنیا میں مشہور کی گئی کہ اب وہاں پر کوڑا مارنے کی سزا ختم کردی گئی ہے، الجزیرہ، بی بی سی سے لیکر امریکی اور یورپی اخباروں اور برصغیری اردو کالی میڈیا تک سب نے ایک ہی لفظ میں لکھا کہ اب سعودی میں بن سلمان نے اصلاحات کے پیش نظر اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے دباؤ میں آکر ایک اسلامی سزا کو ختم کردیا ہے۔۔   پہلی بات یہ کہ اس میں ساری باتیں غلط ہیں، نہ کوڑا مارنے کی اسلامی سزا کو ختم کیا گیا ہے، اور نہ ہی اسے بن سلمان کا ایسا کوئی حکم ہوا ہے، اور نہ ہی کسی تنظیم کے دباؤ میں آکر ایسا کچھ کیا گیا ہے،،، پھر مسئلہ ہے کیا؟!!!  دراصل ایک خبر ڈھائی مہینہ پہلے کی ہے جس کے مطابق ملک سلمان نے سپریم کورٹ کو یہ ارڈر دیا تھا کہ تعزیراتی سزاؤں کو مزید سخت کیا جائے، اور کوڑا مارنے کو ختم کرکے اسے قید اور جرمانے میں بدل دیا جائے۔۔   معلوم ہونا چاہئے کہ تعزیراتی سزاؤں میں حاکم کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ سزا کی سنگینی کے اعتبار سے کوئی بھی سزا متعین کر سکتا ہے، اور یہ بات سعودی دستور کے اندر آرٹیکل 38، 39 اور 40 میں تفصیل سے لکھا ہوا ہے۔۔   جہاں تک حدود میں کوڑا مارنے کی سزا ہے جسے شریعت میں متعین کیا گیا ہے جیسے تہمت لگانے کی سزا 80/ کوڑا، شراب پینے کی سزا چالیس کوڑا، اور غیر شادی شدہ کے زنا کرنے کی سزا سو کوڑا ، تو ان حدود کو نافذ کیا جاتا ہے انہیں کوئی حاکم نہیں چھیڑ سکتا۔۔   چنانچہ 20/ جمادی الثانی کو جو حکم جاری ہوا ہے اس میں صراحت سے (العقوبات التعزیریہ) لکھا ہوا ہے نہ کہ حدود لکھا ہے۔۔ لیکن آج کی مکار میڈیا نے جب اس خبر کو پھیلایا تو اس کی صراحت نہیں کی بلکہ آپ چاہے اردو خبریں دیکھیں یا الجزیرہ جیسے یہودی چینل میں عربی خبریں دیکھیں یا انگریزی خبریں دیکھیں سب نے اسے اس طرح کہانی بنا کر لکھا ہے جس سے قاری کو لگے کہ بن سلمان سعودی عرب سے اسلامی سزاؤں کو ختم کر رہا ہے۔۔۔ اور پھر یہ کہانی پڑھ کر رمضان کی پہلی رات سے قارئین حضرات گالی دیکر اپنے میزان حسنات میں اضافہ کرتے رہیں۔۔   لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہیکہ مکار میڈیا نے اس خبر کو توڑ مروڑ کر ڈھائی مہینے کے بعد کیوں پھیلایا ؟ اسکی کیا وجہ ہے، ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آیا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت اس خبر سے سعودی عرب کو بدنام کرنے کی کوئی شکل مکاروں کے دلوں میں نہ آئی ہو، پھر کل اچانک کسی بڑے ابلیس نے اپنے چیلوں کو یہ سجھاؤ دی ہو کہ ایک پرانی خبر جسے چھوڑ دیا گیا اگر اسے اسطرح توڑ مروڑ کر پھیلایا جائے تو ضرور ہم کامیاب ہوں گے اور اس سے ہمارے ایرانی اور اسرائیلی آقا خوش ہونگے نیز ہمارے چمچمے بھی ڈھول بجائیں گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

Your Ad Spot

???????